عادل راجہ کی برطانوی عدالت میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی جانب سے دائر کیس میں 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے کو معاف کرانے کی اپیل مسترد
عادل راجہ کی برطانوی عدالت میں بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کی جانب سے دائر کیس میں 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے کو معاف کرانے کی اپیل مسترد ہو گئی
برطانوی عدالت میں مدعی بریگیڈئر راشد (ر) نے موقف اختیار کیا کہ عادل راجہ نے تاحال 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے کی رقم ادا نہیں کی
برطانوی عدالت کے ڈپٹی جج ہائیکورٹ مسٹر رچرڈز سپیئرمین نے بھگوڑے عادل راجہ کو مزید 3 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم جاری کردیا
بھگوڑے عادل راجہ نے جرمانہ معاف کرنے کی اپیل 16 اپریل 2024ء کو دائر کی تھی جو مسترد ہوئی اور اب انہیں یہ جرمانہ اضافہ تین ہزار پاؤنڈ کے ساتھ ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے
واضح رہے کہ برطانوی عدالت نے عادل راجہ کو مدعی بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کی 2 درخواستوں، ہتک عزت کیس پر حکم امتناع اور سیکورٹی اخراجات کی مد میں 10 ہزار پونڈ کی ادائیگی کا حکم صادر کیا تھا
برطانوی عدالت نے قرار دیا تھا کہ عادل راجہ نے بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کی اپنی ٹویٹر/ ایکس، فیس بک اور یوٹیوب کی 9 پبلیکیشنز میں ہتک کی
عادل راجہ کو اس رقم کی ادائیگی کیلئے 17 اپریل 2024 تک کا وقت دیا گیا تھا مگر انہوں نے 16 اپریل کو جرمانے کی معافی کیلئے اپیل دائرکی تھی
بھگوڑے عادل راجہ کی جرمانہ معافی کی اپیل بھی مسترد ہونے کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی کہ برطانوی عدالت ان کے موقف سے مطمئن نہیں
واضح رہے کہ عادل راجہ نے افسر کیخلاف اپنی مہم کا آغاز 14 جون 2022 کو ٹویٹز اور یوٹیوب اور فیس بک پر ویڈیوز کے ذریعے کیا تھا
عدالتی دستاویزات سے حاصل معلومات کے مطابق ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نے اپنے برطانوی وکلاء کے ذریعے 11 اگست 2022 کو اپنا کیس دائر کیا تھا
بیرون ملک بیٹھے ملک دشمن عناصر کے گرد اب قانون کا گھیرا تنگ ہوچکا ہے
یاد رہے کہ ماضی میں بھی بھگوڑے عادل راجہ نے اس طرح غربت کا رونا رو کر فنڈنگ سے بہت زیادہ پیسے اکٹھے کئے تھے
Comments are closed.