Sorting by

×

پاک افغان سرحد: کرم کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کا دو ٹوک موقف ۔

اسلام آباد (ان لائن)دفاعی و سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا۔ لیکن اگر IAG اشتعال انگیزی جاری رکھتا ہے تو پاکستان سخت جواب دے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔پاکستان نے ٹی ٹی پی کو نشانہ بنایا اور ٹی ٹی اے ان کی طرف سے ردعمل ظاہر کر رہا ہے۔دفاعی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستانی حملوں سے متعلق عام شہریوں کے نقصان کے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں ۔ ان کی طرف سے دکھائی جانے والی خواتین اور بچوں کی تصاویر پرانی افغان زلزلے کی ویڈیوز ہیں ۔ افغان چینلز کرم میں پاکستانی جانب 19 ہلاکتوں کی خبریں دے رہے ہیں۔ جس میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے ٹی ٹی اے، دوسرے دہشت گرد گروہوں کی طرح، پاکستانی نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف صرف 4 زخمی ہیں، جبکہ گزشتہ رات سے کرم بارڈر پر افغان طالبان کے 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان کے فضائی حملے خاص طور پر تربیتی مرکز پر کیے گئے تھے اور یہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشن تھا۔ ان حملوں کی درستگی پر کوئی شبہ نہیں اور ٹی ٹی پی ان حملوں سے خوفزدہ ہو کر چھپ گئ ہے ، جبکہ اعلیٰ قیادت مزید حملے کے خوف سے روپوش ہو چکی ہے۔ اس وقت ٹی ٹی پی کی دوسری درجے کی قیادت اور اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطہ منقطع ہے، کیونکہ مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے اور انھیں پی اے ایف کے حملوں کا خوف ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے مزید واضح کیا کہ پی اے ایف کے حملے کسی افغان ادارے، IAG یا افغان عوام کے خلاف نہیں تھے۔ IAG کو یہ پاکستان بمقابلہ افغانستان کا معاملہ نہیں بنانا چاہیےاور اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان بھرپور اور موثر جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔۔۔

Comments are closed.