Sorting by

×

بحری وسائل کا تحفظ: ایک عالمی فریضہ

تحریر: اقصیٰ کنول

 

سمندر کرۂ ارض کے موسمی نظام کو منظم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے خوراک کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کے روزگار کا وسیلہ بنتے ہیں اور بے شمار اقسام کی حیاتیاتی انواع کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ ان کا وجود نہ صرف ہمارے ماحول بلکہ ہماری معیشت اور معاشرت کے تانے بانے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے تمام بڑے ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر سمندروں کو آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہ بنایا گیا تو کرۂ ارض کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

دنیا کی تقریباً 80 فیصد بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ بندرگاہیں، تجارتی راہداریاں اور بحری جہاز عالمی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہی صنعت اگر درست اصولوں پر نہ چلائی جائے تو سمندر کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ بحری جہازوں سے خارج ہونے والی آلودگی، پلاسٹک کچرے کا سمندروں میں اخراج، اور تیل کے رساؤ جیسے مسائل سمندری ماحول کے لیے سنگین خطرات بن چکے ہیں۔

ان خطرات سے نمٹنے کے لیے کئی عالمی معاہدے وجود میں آئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں (میرین پولوشن) مار پول کنونشن ہے۔ یہ معاہدہ اور اس سے متعلقہ دیگر قوانین بحری جہازوں کی جانب سے پیدا کردہ آلودگی کو محدود کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جن میں گندے پانی، زہریلے مواد، تیل، اور دیگر فضلات کے سمندر میں اخراج پر سخت ضابطے عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جہازوں سے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو کم کرنے کے لیے بھی مختلف ٹیکنالوجیز اور پالیسیز پر کام ہو رہا ہے تاکہ عالمی حدت میں اضافے کو روکا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) میں سمندری تحفظ، ماحولیاتی توازن، انفراسٹرکچر کی بہتری، اور عالمی شراکت داری جیسے پہلوؤں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان اہداف کا مجموعی پیغام یہی ہے کہ کرۂ ارض کی بقا، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور پائیدار ترقی، اجتماعی ذمہ داری، اور عملی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ سمندری وسائل کا مؤثر تحفظ، موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ، اور بحری انفراسٹرکچر کی ترقی، ان عالمی اہداف کی روشنی میں ایک ناگزیر تقاضا بن چکا ہے، جس کے لیے ریاستوں، اداروں اور معاشروں کو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ شجرکاری منصوبے نہ صرف پاکستان کے ماحولیاتی منظرنامے کو بہتر بنا رہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہپاک بحریہ غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف مؤثر نگرانی اور کارروائیاں کر رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی وسائل کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ سمندری حیاتیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کی خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں موجود قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس، معدنیات اور ماہی گیری کے ذخائر کو بیرونی استحصال سے بچانے کے لیے بھیپاک بحریہ مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ مزید برآں، پاک بحریہکے اینٹی نارکوٹکس اور اینٹی اسمگلنگ آپریشنز سمندری گورننس کا ایک اہم پہلو ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف غیر قانونی سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جا رہا ہے بلکہ سمندری راستوں کو محفوظ اور مستحکم بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔ ان تمام اقدامات کے ذریعے پاک بحریہاس عالمی تصور کو تقویت دے رہی ہے کہ سمندر صرف راستے نہیں، بلکہ ریاستی خودمختاری، ماحولیاتی توازن اور معاشی بقاء کا ذریعہ بھی ہیں۔

ورلڈ میری ٹائم ڈے 2025 دراصل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف وسائل کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک امانت ہے، جسے محفوظ رکھنا ہمارا اخلاقی، ماحولیاتی اور معاشی فریضہ ہے۔ اس امانت کی حفاظت صرف کسی ایک ادارے یا ریاست کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری دنیا کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر “ہمارا سمندر، ہماری ذمہ داری، ہمارا مستقبل” کے عزم کو عملی شکل دیں، کیونکہ ایک محفوظ، پائیدار اور صحت مند سمندر ہی ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کی ضمانت ہے

 

Comments are closed.