آبادی کا طوفان اور پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی
اقوام متحدہ کے جاری کردہ نئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کی آبادی آٹھ ارب کا ہندسہ عبور کر گئی ہے اور اس آٹھ ارب میں سے تقریباً تین فیصد پاکستان کی آبادی پر مشتمل ہے۔
پاکستان دنیا کے ان آٹھ ممالک میں شامل ہے جو 2050 تک دنیا میں بڑھنے والی کل آبادی میں پچاس فیصد حصہ ڈالیں گے۔
اس وقت آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ چین، انڈیا، امریکہ اور انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔جس شرح سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے کیا یہ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور کیا مستقبل میں پاکستان میں اتنی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وسائل بھی دستیاب ہوں گے؟
گندم کی کمی، اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور غذائی قلت کا عفریت آج پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ جس زمین سے سونا اگتا تھا، وہاں آج بھوک کی فصل لہلہا رہی ہے۔ بے قابو آبادی کے سبب زرخیز زمینیں تیزی سے کنکریٹ میں بدل رہی ہیں اور قدرتی وسائل سکڑتے جا رہے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو آنے والی نسلوں کو شاید صاف پانی اور تازہ ہوا بھی نصیب نہ ہو۔
ہرسال تقریباً 20 لاکھ نوجوان پاکستان کی جاب مارکیٹ میں شامل ہو رہے ہیں اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہی نتیجہ ہے۔
پاپولیشن کونسل کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی آبادی حالیہ شرح یا دو فیصد کے حساب سے بھی بڑھتی رہے تو ’سنہ 2040 تک پاکستان کو ایک کروڑ نوے لاکھ مزید گھروں اور گیارہ کروڑ ستر لاکھ نئی نوکریوں کی ضرورت ہو گی۔‘
ملک میں مزید 85 ہزار پرائمری سکول تعمیر کرنے پڑیں گے۔ اتنی بڑی آبادی کو صرف پینے کا پانی فراہم کرنا ہی ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ پاکستان اس وقت پانی کی قلت کا شکار تین سرِفہرست ممالک میں شامل ہے۔
’اگر پاکستان کی معیشت ہر سال چھ سے آٹھ فیصد کے حساب سے بڑھے تب ہی ہم اتنی نوکریاں پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ پاکستان کے باقی وسائل جیسا کہ پانی، توانائی، اور شہروں میں دوسری بنیادی ضروریات پر آبادی کا بے تحاشا بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس وقت وسائل بالکل نہیں بڑھ رہے۔ اگر مستقبل کی فکر ہے تو ہمیں اس متعلق سوچنا ہو گا۔‘
توانائی کا بحران ہمارے دروازے پر پہلے ہی ہتھوڑے برسا رہا ہے۔ آبادی کے بڑھتے بوجھ کے ساتھ بجلی کی طلب بھی آسمان کو چھو رہی ہے، مگر پیداوار وہی پرانی۔ نتیجہ یہ کہ ملک لوڈشیڈنگ کے اندھیروں میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ ہماری معیشت پر پہلے ہی قرضوں کا بوجھ ہے، اور اوپر سے تیل اور گیس کے لیے درآمدات کا انحصار ملک کو مزید بدحالی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
جہاں دریاؤں کی گنگناہٹ ہوتی تھی، وہاں آج پانی کی چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ آبادی میں بے ہنگم اضافے نے پانی کے ذخائر پر بے تحاشہ دباؤ ڈال دیا ہے۔ نہریں سوکھ رہی ہیں، زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے، اور صاف پانی اب خواب بنتا جا رہا ہے۔
معیشت کی رگوں میں پہلے ہی قرضوں اور مہنگائی کا زہر دوڑ رہا ہے، اوپر سے آبادی کا یہ بے لگام سیلاب ملک کو مزید گہرائی میں دھکیل رہا ہے۔ زیادہ آبادی کا مطلب ہے زیادہ روزگار کی ضرورت، زیادہ تعلیمی سہولیات، زیادہ ہسپتال اور زیادہ رہائشی سہولیات۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث حکومت کو ان بنیادی ضروریات کے پورا کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جب زمین پر بوجھ بڑھ جاتا ہے تو قدرت بھی اپنا انتقام لینا شروع کر دیتی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث درخت کاٹے جا رہے ہیں، شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ فطرت کی خوبصورتی کو نگل رہا ہے، اور ماحولیاتی آلودگی نے زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ موسم شدت اختیار کر رہے ہیں، گرمی کی لہریں جان لیوا ہوتی جا رہی ہیں، اور بارشیں یا تو قحط کی صورت میں ناپید ہو جاتی ہیں یا طوفانی سیلاب بن کر تباہی مچا دیتی ہیں۔
یہ کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ اعداد و شمار بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔
ورلڈ بینک کی 2019 کی رپورٹ “Pakistan’s Population Growth and Its Implications” کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، اور اس کے اثرات صحت، تعلیم اور معیشت پر منفی طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کی “State of World Population 2020” رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر پاکستان نے آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو آئندہ دہائیوں میں ترقی کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔
پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے 2017-18 (NIPS) کے مطابق، پاکستان میں شرح پیدائش اور زرخیزی کی شرح اب بھی خطے کے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے، جو مستقبل میں مزید مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ مسئلہ حل طلب ہے اور اس کا حل ہمارے ہی ہاتھ میں ہے۔ ہمیں وہی کرنا ہوگا جو ترقی یافتہ ممالک کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی آبادی کو کنٹرول میں لانے کے لیے سوچ و بچار کرنا ہوگا۔ ہمیں قابل تجدید توانائی کے ذرائع اپنانے ہوں گے تاکہ ایندھن پر انحصار کم ہو۔ پانی کے ذخائر کو محفوظ کرنے کے لیے جدید تکنیکوں کو اپنانا ہوگا۔ زراعت میں نئی جدت لانی ہوگی تاکہ کم زمین پر زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔ شہری منصوبہ بندی ایسی ہونی چاہیے کہ شہروں پر دباؤ کم ہو اور قدرتی وسائل محفوظ رہیں۔
یہ وقت کچھ کر گزرنے کا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں، تو کل ہماری آنے والی نسلیں اس بوجھ تلے دب کر ہمیں کوس رہی ہوں گی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وسائل کی جنگ میں فطرت کو اپنا دشمن بنانے کے بجائے اسے اپنا ساتھی بنائیں اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلائی
Comments are closed.