جرم ،سزا اور اسلامی ٹچ
احتساب عدالت کا فیصلہ تحریک انصاف کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہوا ہے ۔ پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران کو 14 سال کی سزائے قید ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ان کی اہلیہ سابق خاتون اول کو بھی سات سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ القادر ٹرسٹ اور اس سے جڑی 190 ملین پاؤنڈ رقم کی پاکستان منتقلی کا مقدمہ تحریک انصاف کی قیادت کے لئے ایک ایسا مسئلہ بن کر ابھرا ہے جس نے سیاسی اکھاڑے میں پوری جماعت کو چاروں شانے چت کروا دیا ہے۔ حزب اقتدار اور تحریک انصاف کے سیاسی حریف احتساب عدالت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم کے کرپشن کے خلاف بنائے گئے بیانیئے کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف ہیں۔ حسب معمول تحریک انصاف نے اس تلخ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتساب عدالت ،حزب اقتدار اور سیاسی مخالفین کو ہدف بنانا شروع کر دیا ہے۔ حزب اقتدار اور تحریک انصاف کی شعلہ بیانی اور الزام تراشی کےتبادلے نے اگرچہ سیاسی کشیدگی کی آگ پر مزید تیل ڈال دیا ہے۔ تاہم یہ مقدمہ اور اس کا فیصلہ کئ اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔ ملک میں پھیلی سیاسی بے یقینی اور ہمہ جہت قومی مسائل جس سنجیدگی کے متقاضی ہیں وہ دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔ احتساب عدالت سے سابق وزیراعظم اور سابق خاتون اول کو سزا ملنا صرف ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔عالمی سطح پر یہ تاثر مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ہر پاکستانی حکمران اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔ یہ تاثر بین الاقوامی برادری میں ملکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ حزب اقتدار کی صفوں میں احتساب عدالت کے فیصلے کو بڑی شد و مد سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل ہمارے مجموعی رویوں اور غیر دانشمندانہ سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے سامنےآنے والا رد عمل بھی غیر متاثر کن ہے۔ ملک کو درپیش مسائل کا درست ادراک کرنے کے بجائے دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت رٹے رٹائے بیانات کے ذریعے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھ کر درست لائحہ عمل اختیار کرنےکے بجائے ملک گیر سیاسی جماعت کا بیانیہ گمنام اور مشکوک سوشل میڈیا ئی ٹھگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی دلائل کی بجائے گالم گلوچ اور فحش کلامی کے زور پر اپنی جماعت یا گروہ کا موقف درست ثابت کرنے کے لیے ہر غیر اخلاقی ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیک نیوز یعنی جعلی خبروں کا سیلاب سچ اور حقیقت کو برباد کر کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ ایک مخصوص طرز فکر کا حامل طبقہ کرپشن یا بد عنوانی جیسے سنگین جرائم کے داغ دھونے کے لیے عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے میں مصروف ہے ۔
اقتدار اور اختیار کے حصول کی جنگ میں سیاسی جماعتوں کو مذہب اور مقدس ہستیوں کے حوالے دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس غیر سنجیدہ طرز عمل کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔ تحریک انصاف کے بعض غیر سنجیدہ حامی اپنے قائد کی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے بار بار مذہبی حوالے دے کر اپنے سیاسی بیانیے میں جان ڈالنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سے حکومتی ترجمان بھی اس متنازعہ مؤقف کو رد کرنے کے لیے بیانات کے گولے داغ کر سیاسی فضا کو آلودہ کر رہے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ اگر دونوں فریقین اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے سنجیدہ سیاسی دلائل اور مقدمے کے قانونی پہلووں پر توجہ مرکوز رکھتے۔ سیاسی اکھاڑے میں اپنے حریف کی ٹانگ کھینچنے کی خواہش نے ملک کی سیاسی فضا کو زہر آلود کر دیا ہے ۔ غیر ضروری اور بے مقصد سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے بہت سے اہم قومی معاملات حکومتی توجہ سے محروم ہیں۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں زبان دراز ترجمانوں کی بجائے سنجیدہ مزاج قائدین کو آگے لائیں ۔اس پہلو پہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخر ہر حکمران جماعت کی قیادت بدعوانی اور مالی بے قا عدگیوں کے الزامات کی زد میں کیوں آ جاتی ہے؟ تحقیقات اور عدالتی کاروائی پر سزا پانے والے گروہ کو اعتراضات کیوں ہوتے ہیں ؟آج تحریک انصاف کے خلاف مقدمات اور سزاؤں پر جشن منانے والی حکومت گزرے دنوں میں اپنے خلاف سنائے جانے والے فیصلوں کو سیاسی انتقام قرار دیا کرتی تھی۔ یہ سوال پوری شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ ملک میں پھیلی بدعنوانی ، سیاسی ہیجان اور معاشی ابتری کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟اگر سزا پانے والے گروہ کو عدالتی نظام اورتفتیشی اداروں کی کارگردگی پہ اعتراض ہے تو ماضی میں اپنے دور حکومت میں ان خامیوں کو درست کیوں نہیں کیا گیا؟ مالی بدعنوانی یا کرپشن کو چھپانے کے لیے مذہبی جذبات کی چادر کا استعمال ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔
احتساب عدالت کا فیصلہ تحریک انصاف کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہوا ہے ۔ پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران کو 14 سال کی سزائے قید ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ان کی اہلیہ سابق خاتون اول کو بھی سات سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ القادر ٹرسٹ اور اس سے جڑی 190 ملین پاؤنڈ رقم کی پاکستان منتقلی کا مقدمہ تحریک انصاف کی قیادت کے لئے ایک ایسا مسئلہ بن کر ابھرا ہے جس نے سیاسی اکھاڑے میں پوری جماعت کو چاروں شانے چت کروا دیا ہے۔ حزب اقتدار اور تحریک انصاف کے سیاسی حریف احتساب عدالت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر سابق وزیراعظم کے کرپشن کے خلاف بنائے گئے بیانیئے کے بخیے ادھیڑنے میں مصروف ہیں۔ حسب معمول تحریک انصاف نے اس تلخ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتساب عدالت ،حزب اقتدار اور سیاسی مخالفین کو ہدف بنانا شروع کر دیا ہے۔ حزب اقتدار اور تحریک انصاف کی شعلہ بیانی اور الزام تراشی کےتبادلے نے اگرچہ سیاسی کشیدگی کی آگ پر مزید تیل ڈال دیا ہے۔ تاہم یہ مقدمہ اور اس کا فیصلہ کئ اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے ۔ ملک میں پھیلی سیاسی بے یقینی اور ہمہ جہت قومی مسائل جس سنجیدگی کے متقاضی ہیں وہ دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔ احتساب عدالت سے سابق وزیراعظم اور سابق خاتون اول کو سزا ملنا صرف ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔عالمی سطح پر یہ تاثر مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ ہر پاکستانی حکمران اقتدار سے محروم ہونے کے بعد بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔ یہ تاثر بین الاقوامی برادری میں ملکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ حزب اقتدار کی صفوں میں احتساب عدالت کے فیصلے کو بڑی شد و مد سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل ہمارے مجموعی رویوں اور غیر دانشمندانہ سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے سامنےآنے والا رد عمل بھی غیر متاثر کن ہے۔ ملک کو درپیش مسائل کا درست ادراک کرنے کے بجائے دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت رٹے رٹائے بیانات کے ذریعے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کو سمجھ کر درست لائحہ عمل اختیار کرنےکے بجائے ملک گیر سیاسی جماعت کا بیانیہ گمنام اور مشکوک سوشل میڈیا ئی ٹھگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ امر قابل افسوس ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیاسی دلائل کی بجائے گالم گلوچ اور فحش کلامی کے زور پر اپنی جماعت یا گروہ کا موقف درست ثابت کرنے کے لیے ہر غیر اخلاقی ہتھکنڈہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیک نیوز یعنی جعلی خبروں کا سیلاب سچ اور حقیقت کو برباد کر کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتا چلا جا رہا ہے۔ ایک مخصوص طرز فکر کا حامل طبقہ کرپشن یا بد عنوانی جیسے سنگین جرائم کے داغ دھونے کے لیے عوام کے مذہبی جذبات کا استحصال کرنے میں مصروف ہے ۔
Comments are closed.